دن کو راہوں میں رات کو گھر میں
چاک دامن کھڑا ہے سناٹا
زندگی کے اداس منظر میں
رنگ بھرنے لگا ہے سناٹا
کاٹ کر آہٹوں کی چرب زباں
ہر طرف گونجتا ہے سناٹا
میری محرومیوں پہ گھٹ گھٹ کر
آج خود رو پڑا ہے سناٹا
خود کلامی مری گراں گزری
آج مجھ سے لڑا ہے سناٹا
جُز مرے راس کچھ نہ آئے گا
کان میں کہہ گیا ہے سناٹا
گلزیب زیبا
No comments:
Post a Comment