Wednesday, 9 December 2020

جلا کر دامن ہستی چراغاں کر لیا میں نے

 جلا کر دامنِ ہستی چراغاں کر لیا میں نے

جہاں کو صورتِ آئینہ حیراں کر لیا میں نے

بڑا الجھا ہوا تھا فکرِ دوراں میں دلِ محزوں

اسے بھی آشنائے سوزِ پنہاں کر لیا میں نے

نہ مجھ سا سر بکف پاؤ گے گلزارِ محبت میں

لہو میں ڈوب کر جشنِ بہاراں کر لیا میں

میں شرحِ آرزو کر کے بڑا پچھتا رہا ہوں اب

کہ پَل میں جانِ جاں کو دشمنِ جاں کر لیا میں نے

شبِ دیجور کٹتی ہی نہیں صحرائے وحشت کی

"یہ کس امید پر گھر کو بیاباں کر لیا میں نے"

یہی خونابہ افشانی مظفر اپنی قسمت ہے

چلو اچھا ہوا خود کو غزلخواں کر لیا میں نے


مظفر احمد

No comments:

Post a Comment