Wednesday, 9 December 2020

صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا

 صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا

قدموں کو کسی سمت بھی رستہ نہیں ملتا

اس شہر میں اب کوئی شناسا نہیں ملتا

کندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں خود اپنے ہی لاشے

جن لوگوں کو جینے کا سہارا نہیں ملتا

اس کھیت کی مٹی میں تمناؤں کا خوں ہے

جس کھیت سے دہقان کو حصہ نہیں ملتا

اپنے بھی نصیبوں میں وہی سنگ زنی ہے

یہ بات الگ قیس سے شجرہ نہیں ملتا

رہتے ہیں شب و روز غمِ ہِجر سے بوجھل

جُز تیرے کوئی درد کا چارہ نہیں ملتا

ناکامی و حسرت کا گِلہ کیسے کریں ہم

صحرا کے مسافر کو تو دریا نہیں ملتا

جس شخص کو پانے کے لیے عمر گنوائی

اس سے بھی مقدر کا ستارا نہیں ملتا


ساحل منیر

No comments:

Post a Comment