Wednesday, 9 December 2020

اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو

 اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو

جو غم دئیے ہیں تو اسکی دوا نہ دے مجھ کو

میں جانتا ہوں کہ میرا نہیں ہے بخت بلند

یوں خشک پتہ سمجھ کر ہوا نہ دے مجھ کو

یہ مان ہے تجھے چاہا ہے، تیرے بن کے رہے

فقط وفا کے عوض تُو بھلا نہ دے مجھ کو

فقیر ہوں میں تِرے در کا، اک نظر تو دیکھ

بس اپنے در سے یوں بے داد اٹھا نہ دے مجھ کو

اب اور عشق نہ تڑپا مجھے ہر آئے دن

ذرا سے جرم پہ اتنی سزا نہ دے مجھ کو

دعائیں دی ہیں جو چاہت میں کافی ہیں، کاشف

بس اور کوئی بھی حرفِ دعا نہ دے مجھ کو


کاشف لاشاری

No comments:

Post a Comment