اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو
جو غم دئیے ہیں تو اسکی دوا نہ دے مجھ کو
میں جانتا ہوں کہ میرا نہیں ہے بخت بلند
یوں خشک پتہ سمجھ کر ہوا نہ دے مجھ کو
یہ مان ہے تجھے چاہا ہے، تیرے بن کے رہے
فقط وفا کے عوض تُو بھلا نہ دے مجھ کو
فقیر ہوں میں تِرے در کا، اک نظر تو دیکھ
بس اپنے در سے یوں بے داد اٹھا نہ دے مجھ کو
اب اور عشق نہ تڑپا مجھے ہر آئے دن
ذرا سے جرم پہ اتنی سزا نہ دے مجھ کو
دعائیں دی ہیں جو چاہت میں کافی ہیں، کاشف
بس اور کوئی بھی حرفِ دعا نہ دے مجھ کو
کاشف لاشاری
No comments:
Post a Comment