لیلیِٰ جاں کی طلب اور ہے، محمل کے سوا
عشق آسان ہے بس اک ذرا مشکل کے سوا
تُو نے کیا سوچ کے ہجرت کا کیا تھا آغاز
سب میسر ہے یہاں، راحتِ منزل کے سوا
کس طرح ہجر چلا دیتا ہے آری دل پر
یہ تڑپ کون بھلا جانے ہے بسمل کے سوا
لاکھ آئے تھے مرے ناز اٹھانے والے
مجھ کو بھایا نہیں کوئی مرے قاتل کے سوا
کیسے آباد ہوا جاتا ہے زندانِ وفا
"کوئی نغمہ ہی نہیں شورِ سلاسل کے سوا"
کس نے اک آن میں اس دل کا بھرم توڑ دیا
فیصلہ کوئی نہ کر پائے گا اس دل کے سوا
بزم آرائیاں ہر گام پہ ہیں چشم براہ
میرِ محفل نہ بنو گے مری محفل کے سوا
ناخدا تیری رقابت پہ عدو رشک کرے
ہر بھنور میں ہے اتارا مجھے ساحل کے سوا
بشریٰ خلیل
No comments:
Post a Comment