سامانِ عیش سارا ہمیں یوں تو دے گیا
لیکن ہمارے منہ سے زباں کاٹ لے گیا
دفتر میں ذہن، گھر میں نِگہ، راستے میں پاؤں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
سینے سے آگ، آنکھ سے پانی، رگوں سے خون
اک شخص ہم سے چھین کے کیا کیا نہ لے گیا
لب پر سکوت، دل میں اداسی، نظر میں خوف
دورِ عروج ہم کو یہ سوغات دے گیا
پھُنکارتا ہوا مجھے اک اژدہا🐍 ملا
جب بھی کسی خزانے کا در کھولنے گیا
غضنفر علی
No comments:
Post a Comment