اگر تم دیکھ پاؤ تو
اگر ٹانگوں کے دو شاخے کے بیچوں بیچ لٹکے
اس ہوس انگیز پنڈولم سے الٹے منہ لٹکنے سے زرا فرصت ملے تو سوچ لینا
اس دو شاخے سے زرا اوپر کو ایسا چاک ہے جس پر
تمہاری بانجھ مٹی نو مہینے خون پی کر شکل کے کوزے میں اتری تھی
اگر دل چھاتیوں کو نوچنے بھنبھوڑنے کی خواہشوں کے بار سے تھوڑی خلاصی لے
تو بائیں سمت تھوڑا غور کرنا
تمہیں اک دل دکھائی دے گا جس میں بس ازل سے
مرد کی محبت کا ہیولہ رقص کرتا ہے
اگر ہونٹوں کو دانتوں سے چبانے کاٹنے اور مسخ کرنے کی ہوا سر سے نکل جائے
تو ان ہونٹوں کے پنوں پر لکھی تحریر پڑھنا
تم خداؤں کا تکلم بھول جاؤ گے
اگر جوتی پہ رکھے رکھے تھک جاؤ تو عورت کو زرا پلکوں پہ رکھ کر دیکھ لینا
تمہیں شُبھ ساعتوں کے خواب آئیں گے
اگر مردانگی کا خبط شریانوں کی نہریں چھوڑ دے تو ان میں کچھ انسانیت کا شہد بھر دینا
تمہارے دل کی پتھریلی زمینوں پر حیا کی فصل اترے گی
اگر وحشت کا بادل آنکھ کے پردے سے چھٹ جائے
تو تھوڑی دیر سچائی کی نیلی دھوپ میں احساس کی چھت پر ٹہلنا
تمہیں للچاتی رانوں، چھاتیوں، کولہوں، لبوں اور جھولتی کمروں کی شہوت گیر دھند سے پار
اک تقدیس میں مہکا ہوا موسم دکھائی دے گا جس کا نام عورت ہے
اگر آنکھوں سے زیر ناف رکھے بت ہٹا کر دیکھ پاؤ تو
تمہیں محسوس ہو گا کہ؛ عورت جسم سے ہٹ کر بہت کچھ ہے
اگر تم دیکھ پاؤ تو
احمد فرہاد
No comments:
Post a Comment