Wednesday, 9 December 2020

اگر تم دیکھ پاؤ تو

 اگر تم دیکھ پاؤ تو


اگر ٹانگوں کے دو شاخے کے بیچوں بیچ لٹکے 

اس ہوس انگیز پنڈولم سے الٹے منہ لٹکنے سے زرا فرصت ملے تو سوچ لینا

اس دو شاخے سے زرا اوپر کو ایسا چاک ہے جس پر 

تمہاری بانجھ مٹی نو مہینے خون پی کر شکل کے کوزے میں اتری تھی

اگر دل چھاتیوں کو نوچنے بھنبھوڑنے کی خواہشوں کے بار سے تھوڑی خلاصی لے 

تو بائیں سمت تھوڑا غور کرنا

تمہیں اک دل دکھائی دے گا جس میں بس ازل سے

مرد کی محبت کا ہیولہ رقص کرتا ہے

اگر ہونٹوں کو دانتوں سے چبانے کاٹنے اور مسخ کرنے کی ہوا سر سے نکل جائے 

تو ان ہونٹوں کے پنوں پر لکھی تحریر پڑھنا

تم خداؤں کا تکلم بھول جاؤ گے

اگر جوتی پہ رکھے رکھے تھک جاؤ تو عورت کو زرا پلکوں پہ رکھ کر دیکھ لینا

تمہیں شُبھ ساعتوں کے خواب آئیں گے

اگر مردانگی کا خبط شریانوں کی نہریں چھوڑ دے تو ان میں کچھ انسانیت کا شہد بھر دینا 

تمہارے دل کی پتھریلی زمینوں پر حیا کی فصل اترے گی

اگر وحشت کا بادل آنکھ کے پردے سے چھٹ جائے

تو تھوڑی دیر سچائی کی نیلی دھوپ میں احساس کی چھت پر ٹہلنا

تمہیں للچاتی رانوں، چھاتیوں، کولہوں، لبوں اور جھولتی کمروں کی شہوت گیر دھند سے پار

اک تقدیس میں مہکا ہوا موسم دکھائی دے گا جس کا نام عورت ہے

اگر آنکھوں سے زیر ناف رکھے بت ہٹا کر دیکھ پاؤ تو 

تمہیں محسوس ہو گا کہ؛ عورت جسم سے ہٹ کر بہت کچھ ہے

اگر تم دیکھ پاؤ تو


احمد فرہاد

No comments:

Post a Comment