یتیمِ دل
یونہی عمرِ رفتہ کا حال پوچھا، سوال پوچھا
نحیف سمجھا، نزار جانا، ہنسی اڑائی
کہا تھا یہ بھی ہیں بال بگڑے، تمہارے کیسے سوال بگڑے؟
جواب کوئی نہ بن پڑا تو بس یہ کہا پھر
تمہاری چاہت کا نوزائیدہ ہوں، ابھی تو سانسیں بھی اولیں ہیں
اے نازنیں! کیا نہیں یہ کافی یہ ہر پل تم کو ہی سوچتا ہے
تمہاری ہستی کی گود آ کے تمہیں محبت سے دیکھتا ہے
تم اس کو اپنا بنا کے دل سے، یتیمِ دل کو کیا گود لو گی؟
تمہاری چاہت کی مامتا کو ترس گیا ہے
یہ دل کا بچہ بھٹک گیا ہے
عمار یاسر مگسی
No comments:
Post a Comment