روز فلک سے نم برسیں گے
پیار کے بادل کم برسیں گے
موت نے آنچل جب لہرایا
آنگن میں ماتم برسیں گے
قطرہ قطرہ خون کا بن کر
اس دھرتی پر ہم برسیں گے
زُلف کھُلے گی پُروائی کی
گُلشن پر موسم برسیں گے
اب کے برس برسات میں بھائی
دُکھ برسیں گے، غم برسیں گے
بن کر رُسوائی کے آنسو
تیری آنکھ سے ہم برسیں گے
ہم وہ دیوانے ہیں جن پر
پتھر اب پیہم برسیں گے
کنول ضیائی
No comments:
Post a Comment