Thursday, 18 March 2021

روز فلک سے نم برسیں گے

 روز فلک سے نم برسیں گے

پیار کے بادل کم برسیں گے

موت نے آنچل جب لہرایا

آنگن میں ماتم برسیں گے

قطرہ قطرہ خون کا بن کر

اس دھرتی پر ہم برسیں گے

زُلف کھُلے گی پُروائی کی

گُلشن پر موسم برسیں گے

اب کے برس برسات میں بھائی

دُکھ برسیں گے، غم برسیں گے

بن کر رُسوائی کے آنسو

تیری آنکھ سے ہم برسیں گے

ہم وہ دیوانے ہیں جن پر

پتھر اب پیہم برسیں گے


کنول ضیائی

No comments:

Post a Comment