عشق ہو جائے تو پھر ذات نہیں دیکھی جاتی
اس محبت میں تو اوقات نہیں دیکھی جاتی
چاندنی رات میں جگنو بھی بھلے لگتے ہیں
چاندنی جب ہو تو پھر رات نہیں دیکھی جاتی
پھول بھی کھل کے کبھی سامنے جو آ جائے
اک نظر میں تو یہ سوغات نہیں دیکھی جاتی
اس کے ہونٹوں سے تو ہر بات مہک جاتی ہے
بہکے بھونروں سے تو یہ بات نہیں دیکھی جاتی
اس کی زلفوں کی گھٹا دل پہ برس جاتی ہے
عاشقوں سے تو یہ برسات نہیں دیکھی جاتی
اس سے ملنا ہو سعید، حد سے گزر جاتا ہوں
اس ملاقات میں پھر گھات نہیں دیکھی جاتی
کامران سعید خان
No comments:
Post a Comment