Friday, 19 March 2021

عشق ہو جائے تو پھر ذات نہیں دیکھی جاتی

 عشق ہو جائے تو پھر ذات نہیں دیکھی جاتی

اس محبت میں تو اوقات نہیں دیکھی جاتی

چاندنی رات میں جگنو بھی بھلے لگتے ہیں

چاندنی جب ہو تو پھر رات نہیں دیکھی جاتی

پھول بھی کھل کے کبھی سامنے جو آ جائے

اک نظر میں تو یہ سوغات نہیں دیکھی جاتی

اس کے ہونٹوں سے تو ہر بات مہک جاتی ہے

بہکے بھونروں سے تو یہ بات نہیں دیکھی جاتی

اس کی زلفوں کی گھٹا دل پہ برس جاتی ہے

عاشقوں سے تو یہ برسات نہیں دیکھی جاتی

اس سے ملنا ہو سعید، حد سے گزر جاتا ہوں

اس ملاقات میں پھر گھات نہیں دیکھی جاتی


کامران سعید خان

No comments:

Post a Comment