قرنطینہ میں ایک خواہش
وباؤں کے دن ہیں مِرے خوشنما
زندگی معتکف ہے
ہر اک آدمی دوسرے آدمی سے ڈرا جا رہا ہے
جو ڈرتا نہیں ہے، مَرا جا رہا ہے
عجب نفسا نفسی، عجب کشمکش ہے
کسی کو کسی سے غرض ہی نہیں ہے
کسی کی کسی سے کوئی دوستی رہ گئی ہے
نہ کوئی تعلّق بچا ہے
وباؤں کے دن ہیں
سو، مائیں بھی بچوں کو چھُونے سے ڈرتی نظر آ رہی ہیں
خدا جانتا ہے کہ اس بے یقینی کے ماحول میں بھی
جہاں ہر کوئی اپنے پیاروں کے نزدیک جانے سے کترا رہا ہے
مِرا تجھ کو مِل کر گَلے سے لگانے کو جی چاہتا ہے
شعیب کیانی
No comments:
Post a Comment