لطف کتنا ہے، مزا کتنا ہے، شرارت کتنی
ان سے پوچھو کہ ستانے میں ہے راحت کتنی
آ گئی لہجے میں اک ساتھ نزاکت کتنی
اُف وہ کرتے ہیں تو بڑھتی ہے شرارت کتنی
وصل کی شب ہے دلِ شیدا! ذرا ہوش تو کر
آج بے شرم! تجھے آتی ہے غیرت کتنی
در تِرا ملتا نہیں مجھ کو کہ سر پھوڑوں ظالم
اس سے بڑھ کر بھلا پھُوٹے مِری قسمت کتنی
تجھ خوش اندام کو دیکھا ہے تو جانا، ورنہ
علم اب تک نہ تھا کہ قد میں ہے قامت کتنی
ہم نہ کہتے تھے کہ ہے غیر کا چکر حمزہ
کھِل اٹھی دیکھیے معشوق کی صورت کتنی
حمزہ عمران
No comments:
Post a Comment