سب سے الگ ہی لَے تو ہے میرے جناب کی
لگتا نہیں وہ تار کسی بھی رباب میں
ہائے، جو اب مزا ہے مِری فیس بک میں
ملتا نہیں ہے وہ تو کسی بھی کتاب میں
ساقی تو کر کچھ ایسا رہے ہوش نہ مجھے
دیکھوں میں اس کا چہرہ ہی تیری شراب میں
سُوکھے شجر کی ڈال بدن نازنیں کا ہے
کوئی مزا نہیں رہا اُجڑے شباب میں
کوکی تُو کر کچھ ایسا رہے نام یہ زندہ
ہیں وسوسے بڑے دلِ خانہ خراب میں
کوکی گل
No comments:
Post a Comment