Thursday, 21 October 2021

کیوں سہولت سے میں میسر تھا

 ہاں سہولت سے میں میسر تھا

ہاں، مِری قدر ان سے ہو نہ سکی

مجھ کو غیروں سے اب نہیں شکوہ

ہاں، یہ غلطی مِری ہی غلطی تھی

ہاں، میں باتوں میں ان کی آیا تھا

ہاں، بھروسہ خطا بنی میری

ہاں، یہ اپنوں کے زخم ہیں لوگو

جرم ایسا ہی تھا بڑا میرا

کیوں سہولت سے میں میسر تھا


انیس فاروقی

No comments:

Post a Comment