سانس کی یوں کھنچائی ہوتی ہے
جیسے جوتی سلائی ہوتی ہے
اشک سگریٹ کے ساتھ پیتا ہوں
جیسے کڑوی دوائی ہوتی ہے
پٹڑی پٹڑی سے مل نہیں پاتی
کتنی لمبی جدائی ہوتی ہے
کپڑے آنکھوں کو پھاڑ دیتے ہیں
ایسی عمدہ سلائی ہوتی ہے
پہلے مرتا ہے کان میں مزدور
قبر کی پھر کھدائی ہوتی ہے
سن ترابی کہ شیشۂ دل کی
پنج گانہ صفائی ہوتی ہے
علی اعجاز سحر
سحر ستانوی
No comments:
Post a Comment