Friday, 14 May 2021

رات کے گہرے سناٹے میں

 رات کے گہرے سناٹے میں

میں گھر کے آنگن میں تنہا

چاند کو کب سے دیکھ رہا ہوں

دل کی دیواروں کو کب سے

غم کی دیمک چاٹ رہی ہے

ذہن کے لمبے سے کمرے میں

میرے ماضی کی الماری

جس کے دونوں ہی در وا ہیں

غور سے مجھ کو دیکھ رہی ہے

جی میں یہ آتا ہے میرے

ماضی کی اس الماری سے

جس میں بری بھلی سب یادیں

اوپر نیچے چنی ہوئی ہیں

چند سہانی یادیں لے لوں

اور سجا لوں دل میں اپنے

لیکن سوچ کے یہ ڈرتا ہوں

غم کی دیمک ان یادوں کو

دو ہی پل میں چاٹ نہ جائے

یادوں کی یہ پیاری شکلیں

پھر میں کیسے دیکھ سکوں گا


آفتاب شمسی

No comments:

Post a Comment