Friday, 14 May 2021

ڈرا رہے ہیں یہ منظر بھی اب تو گھر کے مجھے

 ڈرا رہے ہیں یہ منظر بھی اب تو گھر کے مجھے

دکھائی خواب دئیے رات بھر کھنڈر کے مجھے

ہر اک غزل میں میں روزانہ چاند ٹانکتا ہوں

ستارہ چومتے ہیں شب اتر اتر کے مجھے

گنوا دی عمر اسے نظم کر نہیں پایا

سلیقہ آتے ہیں ویسے تو ہر ہنر کے مجھے

اس ایک شوق نے مجھ کو مٹا دیا یارو

بس ایک بار کبھی دیکھنا تھا مر کے مجھے

کنارے بیٹھ کے کرتا ہوں نظم اشکوں کو

ندی سناتی ہے افسانے چشم تر کے مجھے

میں اک ادھوری سی تصویر تھا اداسی کی

کیا ہے اس نے مکمل تباہ کر کے مجھے


دنیش نائیڈو

No comments:

Post a Comment