Monday, 4 October 2021

مجھ کو اک عرصہ دلگیر میں رکھا گیا تھا

 مجھ کو اک عرصۂ دلگیر میں رکھا گیا تھا

زہر گویا کسی اکسیر میں رکھا گیا تھا

حاشیے متن سمجھ لے جو پڑھے قصۂ غم

انتظام ایسا بھی تحریر میں رکھا گیا تھا

خواب آلود نگاہوں سے یہ کہتا گزرا

میں حقیقت تھا جو تعبیر میں رکھا گیا تھا

عمر بھر اس لیے برسیں مِری آنکھیں اے دوست

ایک صحرا مِری جاگیر میں رکھا گیا تھا

میری آنکھوں میں ہر اک رنگ تھا تنہائی کا

اک خلا بھی مِری تصویر میں رکھا گیا تھا


عفیف سراج

No comments:

Post a Comment