مجھ کو اک عرصۂ دلگیر میں رکھا گیا تھا
زہر گویا کسی اکسیر میں رکھا گیا تھا
حاشیے متن سمجھ لے جو پڑھے قصۂ غم
انتظام ایسا بھی تحریر میں رکھا گیا تھا
خواب آلود نگاہوں سے یہ کہتا گزرا
میں حقیقت تھا جو تعبیر میں رکھا گیا تھا
عمر بھر اس لیے برسیں مِری آنکھیں اے دوست
ایک صحرا مِری جاگیر میں رکھا گیا تھا
میری آنکھوں میں ہر اک رنگ تھا تنہائی کا
اک خلا بھی مِری تصویر میں رکھا گیا تھا
عفیف سراج
No comments:
Post a Comment