الجھنوں کے ہیں بچھے جال چلے جاتے ہیں
جیسی آتی ہے ہمیں چال چلے جاتے ہیں
دُکھ کو سنتے ہیں توجہ سے جو پہلے پہل
وہ بھی اُکتا کے بہر حال چلے جاتے ہیں
گاؤں آتے تھے فقط ہم سے ہی ملنے جو کبھی
اب بِنا پوچھے ہی احوال چلے جاتے ہیں
پل بھی صدیاں تھی جہاں آج وہیں تیزی سے
موت کی سمت مہ و سال چلے جاتے ہیں
عشق زندہ ہے تو بس دل میں بسائے رکھیۓ
یوں رِیا کاری سے اعمال چلے جاتے ہیں
یاد آتی ہے تو ویران سی دنیا میں کہِیں ہم
اوڑھ کر غم کی سِیہ شال چلے جاتے ہیں
یوں بھی اشعار میں کاشف ہے اثر تھوڑا بہت
بزم میں آنکھیں جو لیے لال چلے جاتے ہیں
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment