Monday, 4 October 2021

شوق نے کی جو رہبری دل کی

 شوق نے کی جو رہبری دل کی

منزلِ عشق طے ہوئی دل کی

اک نظر نے کیا ہے کام تمام

آرزو بھی تو تھی یہی دل کی

دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہے

پاس ہے اپنے آرسی دل کی

جان پر اپنی ہائے کیوں بنتی 

بات جو مانتے کبھی دل کی 


جارج پیش شور

No comments:

Post a Comment