Sunday, 10 July 2022

پھر ترے ریشمی لب مجھ کو منانے آئے

 پھر ترے ریشمی لب مجھ کو منانے آئے

پیاس جنموں کی پھر اک بار بجھانے آئے

یاد سے اس کی کہو آج ستانے آئے

خواب آنکھوں سے، سکوں دل سے چرانے آئے

آج پھر درد کے بازار سجے ہیں یارو

اشک پھر آنکھوں میں دوکان لگانے آئے

تُو نے احساس کی دولت سے نوازا تھا مگر

زیست کے فکر و الم ہوش اڑانے آئے

منتظر آج تلک بھی ہیں کہ اس رات کبھی

تُو کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے

کمسنی مجھ میں یہی سوچ کے زندہ ہے سحر

میں جو روٹھوں تو کبھی تو بھی منانے آئے


نینا سحر

No comments:

Post a Comment