Sunday, 10 July 2022

دور سے چل کے آیا تھا میں ننگے پاؤں

 پیاس


دور سے چل کے آیا تھا میں ننگے پاؤں ننگے سر

سر میں گرد زباں میں کاٹنے پاؤں میں چھالے ہوش تھے گم

اتنا پیاسا تھا میں اس دن جتنا چاہ کا مارا ہو

چاہ کا مارا وہ بھی ایسا جس نے چاہ نہ دیکھی ہو

اتنے میں کیا دیکھا میں نے ایک کنواں ہے ستھرا سا

جس کی من ہے پکی اونچی جس پر چھاؤں ہے پیڑوں کی

چڑھ کر من پر جھانکا میں نے جوش طلب کی مستی میں

کتنا گہرا اتنا گہرا جتنی ہجر کی پہلی رات

کیسا اندھا ایسا اندھا جیسی قبر کی پہلی رات

کنکر لے کے پھینکا تہہ میں

پانی کی آواز نہ آئی

اس کا دل بھی خالی تھا


خورشید الاسلام

No comments:

Post a Comment