Sunday, 10 July 2022

غور کے قابل ہے دنیا کا نظام

 غور کے قابل ہے دنیا کا نظام 

اس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقام 

جنگ سے ہوتی ہے پیدا مفلسی 

مفلسی سے امن ہو جاتا ہے عام 

امن میں قومیں کہاں لیتی ہیں مال 

مال سے بڑھتا ہے کبر اے نیک نام 

کبر ہے پھر پیش خیمہ جنگ کا 

بس یہی چکر ہے جاری صبح و شام 

آئے دن ہوتی ہیں یوں تبدیلیاں 

کوئی آقا بن گیا کوئی غلام 

آدمی کو زندگی میں چاہیے 

ہر گھڑی کرتا رہے نیکی کے کام 

نیکیوں کا فیض جاری ہو اگر 

خود بخود مٹ جائیں یہ جھگڑے تمام 


فیض لدھیانوی

No comments:

Post a Comment