Thursday, 19 November 2020

ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو

 ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو

اکیلا چھوڑ کے تو بھی کہاں چلا مجھ کو

میں کب سے ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اپنی قسمت کو

یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ذرا دکھا مجھ کو

دہکتی جلتی ہوئی دوپہر ملی لیکن

کسی درخت کا سایا نہ مل سکا مجھ کو

میں اپنے روم کی بتی جلائے بیٹھا ہوں

ارے یہ شام سے پہلے ہی کیا ہوا مجھ کو

بلا کے شور میں ڈوبی ہوئی صدا ہوں میں

کسی سے کیا کہوں میں نے بھی کب سنا مجھ کو

وہ کوئی اور ہے علویؔ جو شعر کہتا ہے

تم اس کے جرم کی دیتے ہو کیوں سزا مجھ کو


محمد علوی

No comments:

Post a Comment