Thursday, 19 November 2020

اب قبیلے کی روایت ہے بکھرنے والی

 اب قبیلے کی روایت ہے بکھرنے والی

ہر نظر خود میں کوئی شہر ہے بھرنے والی

خوش گمانی یہ ہوئی سوکھ گیا جب دریا

ریت سے اب مری کشتی ہے ابھرنے والی

خوشبوؤں کے نئے جھونکے ہیں ہر اک دھڑکن میں

کون سی رُت ہے مرے دل میں ٹھہرنے والی

کچھ پرندے ہیں مگن موسمی پروازوں میں

ایک آندھی ہے پر و بال کَترنے والی

ہم بھی اب سیکھ گئے سبز پسینے کی زباں

سنگ زاروں کی جبینیں ہیں سنورنے والی

تیز دُھن پر تھے سبھی رقص میں کیوں کر سنتے

چند لمحوں میں بلائیں تھیں اترنے والی

بس اسی وقت کئی جوالا مکھی پھوٹ پڑے

موتیوں سے مری ہر ناؤ تھی بھرنے والی

ڈھک لیا چاند کے چہرے کو سیہ بادل نے

چاندنی تھی مرے آنگن میں اترنے والی

دفعتاً ٹوٹ پڑے چند بگولے عنبرؔ

خوشبوئیں تھیں مری بستی سے گزرنے والی


عنبر بہرائچی

No comments:

Post a Comment