Thursday, 15 September 2022

جو دروازے چناؤ کے دنوں میں کھٹکھٹاتے تھے

 جو دروازے چناؤ کے دنوں میں کھٹکھٹاتے تھے

قدم جن کے ہماری چوکھٹوں پر ڈگمگاتے تھے

جو اپنے ہاتھ باندھے مانگتے تھے ووٹ کی دولت

جو کہتے تھے؛ ہمیں دے دیجیے بس آخری مہلت

جو ہم کو بھائی کہتے تھے جو ہم کو یار کہتے تھے

تمہارے واسطے ہیں بر سرِ پیکار کہتے تھے

اچانک اک وبا آئی، ہوئے وہ آنکھ سے اوجھل

ہماری بے بسی پر دل کسی کا نہ ہوا بوجھل

اگر ہم ناں رہے تو کس پہ ہو گی یہ حکمرانی

ہماری ہی وجہ سے ہے یہ عہدوں کی فراوانی

ہمارے نام کے دم سے تمہارا نام اونچا ہے

تمہارا مرتبہ اونچا،۔ تمہارا کام اونچا ہے

جو خرچہ تم نے کرنا ہے چناؤ کے مہینے میں

اسے لوگوں میں تم بانٹو دباؤ کے مہینے میں

اٹھو اب سوچتے کیا ہو؟ تجوری کی طرف جاؤ

ہیں کچھ مجبور محنت کش انہیں خوراک پہنچاؤ


احمد نعیم ارشد

No comments:

Post a Comment