Thursday, 15 September 2022

رقص بسمل تری آواز پہ کرتے دیکھا

 رقصِ بسمل تِری آواز پہ کرتے دیکھا

آتشِ لحن سے بادل کو بکھرتے دیکھا

تان دیپک نہیں اشرارِ ستم برسے ہیں

تیری آواز میں سورج کو اترتے دیکھا

رنگِ آنچل تِرا آتش میں ڈھلا ہو جیسے

اور تاروں کو سرِ زلف مچلتے دیکھا

جلتے دیپک نے بھی پکڑا ہے ہوا کا آنچل

گرمئ عشق سے اس کو بھی تڑپتے دیکھا

زلفوں میں گویا مچلتی ہے چمکتی بجلی

شمع دیدوں میں سرِ شام ہی جلتے دیکھا

چاندنی رات میں جلتا رہا فُرقت کا چراغ

اور دن میں کبھی سورج کو اُبلتے دیکھا

آتشِ عشق میں جلنے کو بدن مائل تھا

رمزی نے روح کو اپنی تو سنبھلتے دیکھا


معین لہوری رمزی

No comments:

Post a Comment