Thursday, 15 September 2022

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

 معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

مجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

آنچل اور ملبوس پہ جن کی آنکھیں چپکی رہتی ہیں

ان کو با کردار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

میں واقف ہوں رنگوں کی ہر رنگ بدلتی فطرت سے

رونق کو بازار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

مجنوں اور شاہوں میں کچھ دن میں بھی اٹھا بیھٹا ہوں 

صحرا کو گلزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

فیض عالم بابر خود بھی یار ہے جانے کس کس کا

یاروں کو مکار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں


فیض عالم بابر

No comments:

Post a Comment