معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
مجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
آنچل اور ملبوس پہ جن کی آنکھیں چپکی رہتی ہیں
ان کو با کردار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
میں واقف ہوں رنگوں کی ہر رنگ بدلتی فطرت سے
رونق کو بازار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
مجنوں اور شاہوں میں کچھ دن میں بھی اٹھا بیھٹا ہوں
صحرا کو گلزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
فیض عالم بابر خود بھی یار ہے جانے کس کس کا
یاروں کو مکار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
فیض عالم بابر
No comments:
Post a Comment