Thursday, 15 September 2022

میں تو ہوں کمزور بس میں فقط عورت رہی

 میں فقط عورت رہی


میں کہ اک نوعِ بشر

میں وجودِ عارضی

میں نے سوچا ہوں نڈر

میں تو اک انسان تھی

میں نے ڈھونڈا ذات کو

میں تماشا بن گئی

میں نے پر ہی سی لیے

میں نے کیا پرواز کی

میں نے دیکھا کھوج کر

میں متاعِ بے بسی

میں الگ مخلوق ہو

میں فریبِ دائمی

میں تو ہوں کمزور بس

میں فقط عورت رہی


تابندہ سراج

No comments:

Post a Comment