کہ حال دل کا جہان بھر کو سن لیا بھی تو کیا کروں گا
جو اس پہ دل میں غموں کا دریا چھپا لیا بھی تو کیا کروں گا
عجیب دُکھ ہے کے تیرا ہو کر بھی تیرا ہونے سے ڈر رہا ہوں
عجیب دُکھ ہے کہ تم کو اپنا بنا لیا بھی تو کیا کروں گا
جُدا جُدا تھے جُدا جُدا ہیں، خدا خدا تھا، خدا خدا ہے
مگر یہ قصہ تمہیں مکمل سنا لیا بھی تو کیا کروں گا
مزاج اپنا عجیب تر ہے جو بات کرتا وہ روٹھ جاتا
مگر سبھی کو یہاں وہاں پر منا لیا بھی تو کیا کروں گا
تم کو پانے کی کوششوں میں مجھے یہ بے سُود سا لگا ہے
کہ دل اگر چیر کر بھی تم کو دیکھا لیا بھی تو کیا کروں گا
ادریس اکبر
No comments:
Post a Comment