مانا کہ اب کرم سے ہی پیش آئیے گا آپ
لیکن مذاقِ عشق کہاں پائیے گا آپ
مانا کہ اب رہے گا ہمیشہ میرا خیال
مانا کہ اب نہ ہوگا میری ذات سے ملال
مانا کہ اب نہ آئے گا لب پر کوئی سوال
مانا کبھی نہ اب مجھے ٹھکرائیے گا آپ
لیکن مذاقِ عشق کہاں پائیے گا آپ
ہم نے کیا ہے آپ کی باتوں کا اعتبار
ہم نے کیا ہے قلب خزیں آپ پر نثار
ہم نے کیا ہے دامنِ دل غم سے تار تار
یہ دیکھ کر بھی رحم جو فرمائیے گا آپ
لیکن مذاقِ عشق کہاں پائیے گا آپ
مانا کہ اب نہ ہو گی مِری زندگی تباہ
مانا کہ اب نہ ہو گی کبھی قہر کی نگاہ
مانا کہ اب نہ ہوں گے کبھی جور بے پناہ
مانا کہ اشک آنکھوں میں بھر لائیے گا آپ
لیکن مذاقِ عشق کہاں پائیے گا آپ
صابر دہلوی
مرزا قادر بخش
No comments:
Post a Comment