احوالِ ملاقات کا تکرار کروں گا
واصل ہوں، فقط وصل کا پرچار کروں گا
مصلوب تھا حلاج، مگر محوِ ثنا تھا
حلاج ہوں میں، تذکرۂ یار کروں گا
سجدے ہیں مِرے یار کے دیدار کی خاطر
سجدوں میں اسی چاہ کا اظہار کروں گا
ہر روز میں قاصد کو تھماؤں گا نیا خط
ہر روز ملاقات پہ اصرار کروں گا
دکھ درد سبھی ان کو سناؤں گا بٹھا کر
پھر چشمِ گہربار کا دیدار کروں گا
آ بیٹھ! مجھے دیکھنے دے اپنا سراپا
جذبات کا، مکتوب میں اظہار کروں گا
اوصافِ لبِ یار میں مصروف ہوں، واصل
فرصت جو ملی، مدحتِ رخسار کروں گا
فرقت کے مضامین میں رکھا ہے بھلا کیا
واصل ہوں فقط وصل کا پرچار کروں گا
عتیق واصل
No comments:
Post a Comment