غم کے مارے جو بغاوت پہ اُتر آتے ہیں
لوگ کم ظرف عداوت پہ اتر آتے ہیں
زخم خیرات میں بٹتے ہیں تو دنیا والے
جوق در جوق سخاوت پہ اتر آتے ہیں
جو ترازو پہ یقیں رکھے تو میرے ناقد
فیصلے آپ عدالت پہ اتر آتے ہیں
سب ہی پروانے چراغوں کی محبت میں یوں
شام ہوتے ہی شہادت پہ اتر آتے ہیں
میں تِرے عکس میں ڈھلتا ہوں تو دنیا والے
بر سرِ خاک عداوت پہ اتر آتے ہیں
روپ تیرا کسی کی جان بھی لے سکتا ہے
آئینے تجھ سے محبت پہ اتر آتے ہیں
میں بلاتا ہوں تِرے نام سے خود کو جاناں
بے سبب لوگ شکایت پہ اتر آتے ہیں
ہم پرندوں کو درختوں سے اڑاتے ہی نہیں
درد ہجرت لیے عادت پہ اتر آتے ہیں
جب وہ آتے ہیں ہوا بن کے چمن میں عاصم
پھول سارے ہی شرارت پہ اتر آتے ہیں
عاصم ممتاز
No comments:
Post a Comment