Saturday, 18 September 2021

اعلان جنگ ہو چکا تاخیر کھینچ کر

 اعلانِ جنگ ہو چکا تاخیر کھینچ کر

کرنا بھی کیا میان سے شمشیر کھینچ کر

تجھ خد و خال میں کوئی ایسا طلسم تھا

دل آئینہ ہوا تِری تصویر کھینچ کر

جلتا ہے اس کے نم سے چراغِ ہمیشگی

خوش ہے مِری نگہ غمِ شبیر کھینچ کر

بیٹھا رہا میں دل لیے زندانِ ہجر میں

ہونا بھی کچھ نہ تھا وہاں زنجیر کھینچ کر

یہ معرکہ تو عشق میں پہلے ہوا نہ تھا

لایا ہوں میں جو بارِ گراں گیر کھینچ کر

ہمت جو ہے تو خود پہ چلا کر دکھا مجھے

کیا سوچتا ہے اپنی طرف تیر کھینچ کر

یونہی سخن میں لطف نہیں ہے مِرے حسن

لاتا ہوں لفظ لفظ میں تاثیر کھینچ کر


حسن فرذوق

No comments:

Post a Comment