Friday, 9 December 2016

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

اشک کیسے، یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
خوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے
اجنبیت بھری آواز، یہ بدلے ہوئے نقش
مسئلہ میرا ہے، بستی تو وہی نکلی ہے
تین حصوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میرا
تیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے
عین ممکن ہے وہیں میرے شب و روز بھی ہوں 
شہرِ نا وقت کے ملبے سے گھڑی نکلی ہے
کون آسیب ہے اس خواب سرا کا باسی؟
روشنی، آنکھ سے چلاتی ہوئی نکلی ہے
خیر میں تو کہیں جاتا ہی کہاں ہوں شارقؔ
رہی ویرانی سو وہ گھر سے ابھی نکلی ہے

سعید شارق

No comments:

Post a Comment