Friday, 9 December 2016

نہ جانے کب تلک یہ کیفیت طاری رہے گی

نہ جانے کب تلک یہ کیفیت طاری رہے گی
یہ خالی گٹھڑی کتنی دیر تک بھاری رہے گی
تِری آواز کی ٹھوکر ہو یا ضربِ خموشی
کوئی بھی چوٹ ہو میرے لیے کاری رہے گی
دہانے تک پہنچ آئے ہیں کچھ پتھر لڑھک کر
مگر یہ نہر سینے سے یونہی جاری رہے گی
بہت سے ان سلے خوابوں کے جوڑے ہونگے اس میں
سدا کمرے میں اک نادیدہ الماری رہے گی
تِرے غم کا دباؤ مستقل ہو یا بدل جائے
مِری افسردگی کی شرح معیاری رہے گی
یونہی خالی تو چھوڑی جا نہیں سکتی یہ مسند
سو کچھ دن گھر پہ ویرانی کی سرداری رہے گی
شجر پر آ رہا ہے بُور زخموں کا بھی شارقؔ
ثمر آئے نہ آئے پر ثمر باری رہے گی

سعید شارق

No comments:

Post a Comment