کوئی کرتا ہے کہاں حوصلہ افزائی بھی
میں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی
کتنی لہریں تھیں جو مشترکہ تھیں ہم دونوں میں
سو تِرے ساتھ ہوئی کم مِری گہرائی بھی
قفسِ وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانند
میری کمزوری بھی ہے اور توانائی بھی
کون سمجھے مِری آبادی و ویرانی کو
جھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی
اب میں کانوں پہ رکھوں ہاتھ کہ آنکھوں پہ رکھوں
شور اتنا ہے کہ لے جائے گا بینائی بھی
بانسری کی وہی آواز سناتے ہیں مجھے
ڈھول بھی، پیانو بھی، سارنگی بھی، شہنائی بھی
میں نے تحفے میں نئے رنج کی چادر شارقؔ
صرف لائی ہی نہیں خود اسے پہنائی بھی
سعید شارق
No comments:
Post a Comment