Friday, 9 December 2016

کوئی کرتا ہے کہاں حوصلہ افزائی بھی

کوئی کرتا ہے کہاں حوصلہ افزائی بھی
میں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی
کتنی لہریں تھیں جو مشترکہ تھیں ہم دونوں میں
سو تِرے ساتھ ہوئی کم مِری گہرائی بھی
قفسِ وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
پھڑپھڑاتا ہے بہت، طائرِ تنہائی بھی
اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانند
میری کمزوری بھی ہے اور توانائی بھی
کون سمجھے مِری آبادی و ویرانی کو
جھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی
اب میں کانوں پہ رکھوں ہاتھ کہ آنکھوں پہ رکھوں
شور اتنا ہے کہ لے جائے گا بینائی بھی
بانسری کی وہی آواز سناتے ہیں مجھے
ڈھول بھی، پیانو بھی، سارنگی بھی، شہنائی بھی
میں نے تحفے میں نئے رنج کی چادر شارقؔ
صرف لائی ہی نہیں خود اسے پہنائی بھی

سعید شارق

No comments:

Post a Comment