Friday, 9 December 2016

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا

مِرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا
وہ میرے بعد میری زندگی میں آئے گا
یہاں کی بات الگ ہے جہانِ دیگر سے
میں کیسے آؤں گا مجھ کو اگر بلائے گا
مجھے ہنسی بھی میرے حال پر نہیں آئی
وہ خود بھی روئے گا اوروں کو بھی رُلائے گا
بچھڑ کے اس کو گئے آج تیسرا دن ہے
اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا
فقیہِ شہر کے بارے میں میرے رائے تھی
گناہ گار ہے پتھر نہیں اٹھائے گا
اسی طرح دیوار و در تنگ ہوتے رہے
تو کوئی اپنے لیے گھر نہیں بنائے گا
ہمارے بعد یہ دار و رسن نہیں ہوں گے
ہمارے بعد کوئی سر نہیں اٹھائے گا

انجم خیالی

No comments:

Post a Comment