Friday, 9 December 2016

میں جی رہا ہوں کہ ماتم بھی ہو چکا میرا

میں جی رہا ہوں کہ ماتم بھی ہو چکا میرا
سنا ہے جان بہ لب تھا ،سو کیا بنا میرا
بس اپنی منزلِ گمنام تک پہنچ لوں میں
یہ راہ ڈھونڈتی آئے گی پھر پتا میرا
تجھے کہا نا اداسی کی وجہ کوئی نہیں
خدا کا واسطہ ہے یار! سر نہ کھا میرا
ابھی تلک وہی جلدی ہے گھر پہنچنے کی
یہ اور بات کہ کوئی نہیں رہا میرا
عقیدہ، سوچ، مشاغل، مزاج، معمولات
تِرے بدلنے سے کیا کیا بدل گیا میرا
عیاں ہوا ہوں زمانے پہ رحم کھاتے ہوئے
وگرنہ، ہاتھ نہ لگتا کوئی سِرا میرا
عطا ہوا مجھے رزق الم بقدرِ طلب
سبھی کے حصے میں آیا بچا کھچا میرا
نظر ہی کیا، تِری آنکھیں چلی گئی ہوتیں
تُو ایک بار اگر خواب دیکھتا میرا
نجانے کس نے کرائی مصالحت شارقؔ
ہوا چلی بھی تو جلتا رہا دیا میرا

سعید شارق

No comments:

Post a Comment