ترتیب دے رہا تھا تری سب نشانیاں
تازہ خمار دے گئیں یادیں پرانیاں
دونوں کو انتظار رہا، وہ پہل کرے
کتنی انا پرست ہیں اپنی جوانیاں
شاید کہ تجھ کو دیکھ کے مچلے گا ان کا دل
ہائے رے میرے دل یہ تری خوش گمانیاں
کرتا ہوں اختلاف کہ یکسانیت نہ ہو
ورنہ حواس پر ہیں تیری حکمرانیاں
شاید وہ ڈر گئی ہے محبت کے نام سے
پڑھتی تھی عشق کی جو ادھوری کہانیاں
تیری سپردگی سے تری بے رخی تلک
دل پر عطش کے نقش ہیں سب مہربانیاں
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment