Saturday, 5 December 2020

بس وہی شب شب وصال نہیں

 بس وہی شب، شبِ وصال نہیں

جس میں یادیں نہیں خیال نہیں

وہ مصور کمال ہے جاناں

تُو حسیں ہے، ترا کمال نہیں

میں تو اس کا لحاظ کرتا تھا

اس نے سمجھا مری مجال نہیں

جانتا ہوں سبھی جواب ترے

میرے ہونٹوں پہ اب سوال نہیں

جن گناہوں میں مبتلا ہوں میں

ان میں دشمن کی کوئی چال نہیں

میرا ماضی میں کوئی حال نہ تھا

حال یہ ہے کہ کوئی حال نہیں

اس ہی در کا عطش بھی نوکر ہے

جس پہ آتا کبھی زوال نہیں


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment