شام کی نم ہوا میں کوئی غزل
دشتِ حیرت سرا میں کوئی غزل
کون گزرا ہے دل کے رستے سے
گونجی ہر سُو فضا میں کوئی غزل
آخری اک اذاں، سرِ مقتل
آپ اپنے وجود سے سرشار
چاندنی کی ردا میں کوئی غزل
منہ تکا ہی کرے ہے جس تِس کا
بزمِ رقصِ صبا میں کوئی غزل
آئینہ خانہ سی دمکتی ہوئی
آپ کی ہر ادا میں کوئی غزل
گونجتی جا رہی ہے صدیوں سے
روحِ ارض و سما میں کوئی غزل
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment