بہت مشکل تھا
میرے واسطے یہ فیصلہ کرنا
کہ جیسے بے گناہ
خود چلتے چلتے دار تک جاۓ
کہ جیسے خود خزاؤں کو
کوئی پیغام بھجواۓ
مگر
اس سے بھی مشکل تھا
ہمارے بیچ آتی دوریوں کو
بے بسی سے دیکھتے رہنا
تمہارے مہرباں لہجے میں
گھُلتی بے رخی کے وار کو سہنا
مجھے تسلیم ہے
منہ زور جذبوں کی
لگامیں میں نے کھینچی ہے
بساطِ جاں
میں نے خود سمیٹی ہے
بہت مشکل تھا
میرے واسطے یہ فیصلہ کرنا
شبنم رحمٰن
No comments:
Post a Comment