Thursday, 6 May 2021

کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں

 زخمِ مسیحائی


کب سے خاموش سی گم سم سی یونہی بیٹھی ہوں

سامنے خط ہے تِرا

اور دل کے آنگن میں

موسمِ درد دبے پاؤں چلا آیا ہے

اور زخموں کی فصل اب کے بہت اچھی ہے

باتوں باتوں میں لگے دل پہ جو

اس بات کا زخم

دل کی منڈیروں پہ جم جائے جو

اس رات کا زخم

اس سیاہی میں جو گُم ہو گیا

اس ساتھ کا زخم

جو یقیں ٹُوٹ کے تبدیل ہوا ریزوں میں

روح میں چُبھتے کھٹکتے ہوئے

ذرّات کا زخم

تم نے لکھا ہے کہ

تم ذات کے زخموں کو سہنا سیکھو

تم بھی اوروں کی طرح دنیا میں رہنا سیکھو

مشورہ ہے تو بہت خوب

مگر

ایسی دنیا سے کہاں میری شناسائی ہے

یہ تِرا خط ہے یا

زخمِ مسیحائی ہے


شبنم رحمٰن

No comments:

Post a Comment