کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے
عجیب شخص تھا جس کے عذاب ڈھوتے رہے
کوئی تو بات تھی ایسی کہ اس تماشے پر
ہنسی بھی آئی مگر منہ چھپا کے روتے رہے
ہمی کو شوق تھا دنیا کے دیکھنے کا بہت
ہم اپنی آنکھوں میں خود سوئیاں چبھوتے رہے
بس اپنے آپ کو پانے کی جستجو تھی کہ ہم
خراب ہوتے رہے اور خود کو کھوتے رہے
ہمیں خبر نہ ہوئی اور دن بھی ڈوب گیا
چٹختی دھوپ کا بستر بچھائے سوتے رہے
شمیم حنفی
آج 6 مئی 2021 کو اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ڈراما نگار جناب شمیم حنفی کورونا وائرس کا شکار ہو کر رضائے ربی سے انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
No comments:
Post a Comment