Thursday, 6 May 2021

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے

 کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے

عجیب شخص تھا جس کے عذاب ڈھوتے رہے

کوئی تو بات تھی ایسی کہ اس تماشے پر 

ہنسی بھی آئی مگر منہ چھپا کے روتے رہے

ہمی کو شوق تھا دنیا کے دیکھنے کا بہت 

ہم اپنی آنکھوں میں خود سوئیاں چبھوتے رہے 

بس اپنے آپ کو پانے کی جستجو تھی کہ ہم

خراب ہوتے رہے اور خود کو کھوتے رہے

ہمیں خبر نہ ہوئی اور دن بھی ڈوب گیا

چٹختی دھوپ کا بستر بچھائے سوتے رہے


شمیم حنفی

آج 6 مئی 2021 کو اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ڈراما نگار جناب شمیم حنفی کورونا وائرس کا شکار ہو کر رضائے ربی سے انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

No comments:

Post a Comment