تجھ کو معلوم نہیں کچھ بھی تو کیا جانتا ہے
اپنی حالت تو فقط اپنا خدا جانتا ہے
ہم ہی دیوانے ہیں جو حد سے گزر جاتے ہیں
یہ زمانہ تو محبت کو سزا جانتا ہے
بے بسی ایک اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
کیونکہ عاشق تو فقط دل کا کہا جانتا ہے
شور شہروں کا میرے گاؤں کو بھی لے ڈوبا
کون مرتی ہوئی قدروں کو بھلا جانتا ہے
گھونسلہ ٹوٹ گیا ہے تو اسے پھر سے بنا
اپنی تقدیر کو کیونکر تو ہوا جانتا ہے
وہ ہمیں چھوڑ گیا ہے تو شکایت کیسی
بات اس سے ہو کہ جو اچھا برا جانتا ہے
سعد جی بات بنانے سے نہیں فائدہ کچھ
جو مخاطب ہے، وہ تجھ سے بھی سوا جانتا ہے
سعد اللہ شاہ
No comments:
Post a Comment