Thursday, 6 May 2021

تجھ کو معلوم نہیں کچھ بھی تو کیا جانتا ہے

 تجھ کو معلوم نہیں کچھ بھی تو کیا جانتا ہے

اپنی حالت تو فقط اپنا خدا جانتا ہے

ہم ہی دیوانے ہیں جو حد سے گزر جاتے ہیں

یہ زمانہ تو محبت کو سزا جانتا ہے

بے بسی ایک اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں

کیونکہ عاشق تو فقط دل کا کہا جانتا ہے

شور شہروں کا میرے گاؤں کو بھی لے ڈوبا

کون مرتی ہوئی قدروں کو بھلا جانتا ہے

گھونسلہ ٹوٹ گیا ہے تو اسے پھر سے بنا

اپنی تقدیر کو کیونکر تو ہوا جانتا ہے

وہ ہمیں چھوڑ گیا ہے تو شکایت کیسی

بات اس سے ہو کہ جو اچھا برا جانتا ہے

سعد جی بات بنانے سے نہیں فائدہ کچھ

جو مخاطب ہے، وہ تجھ سے بھی سوا جانتا ہے


سعد اللہ شاہ

No comments:

Post a Comment