Thursday, 6 May 2021

دل جینے کے بہانے ڈھونڈے

 دل جینے کے بہانے ڈھونڈے

پھر وہی دوست پرانے ڈھونڈے

جن پہ ہم ساتھ گزرے تھے کبھی

انہی رستوں کے ٹھکانے ڈھونڈے

طاق پہ رکھی ہوئی تصویروں میں

اپنے ماضی کے زمانے ڈھونڈے

پہلے پڑھنے کو کتابیں تھیں بہت

پھر کئی چہرے سہانے ڈھونڈے

ان گِنت تیر نظر کے پار ہوئے

اب بھلا کون نشانے ڈھونڈے


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment