دل جینے کے بہانے ڈھونڈے
پھر وہی دوست پرانے ڈھونڈے
جن پہ ہم ساتھ گزرے تھے کبھی
انہی رستوں کے ٹھکانے ڈھونڈے
طاق پہ رکھی ہوئی تصویروں میں
اپنے ماضی کے زمانے ڈھونڈے
پہلے پڑھنے کو کتابیں تھیں بہت
پھر کئی چہرے سہانے ڈھونڈے
ان گِنت تیر نظر کے پار ہوئے
اب بھلا کون نشانے ڈھونڈے
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment