Thursday, 6 May 2021

یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا

 یہ جانتے تھے کہ ملنا اُداس کر دے گا

کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا

یہ جان کر بھی ہے کتنا تِرا خیال عزیز

تِرے خیال کا رہنا اداس کر دے گا

میں کچھ نہیں ہوں تو ہونے کی کوششوں میں ہوں

اگرچہ بعد میں ہونا اداس کر دے گا

وہ میرے گِرد لگائے گا ڈھیر خوشیوں کا

اور اس طرح مجھے دُگنا اداس کر دے گا

تمام دن میں پریشانیوں میں پھرتا رہا

کہ چاند شام کو کتنا اداس کر دے گا


کلیم احسان بٹ

No comments:

Post a Comment