Friday, 18 March 2022

دریچوں میں کھڑی دستک

 خواب آسیب


دریچوں میں کھڑی دستک

بھلا یہ رات کی

کیوں کسمساتی ہے

دریچے بند ہیں

ان کو ابھی تو

بند رہنا ہے

کہ گلیوں میں ہر اک جانب

کوئی آسیب پھرتا ہے

لہو اوڑھے

صدا توڑے

دریچے توڑ کر اندر

دلوں میں بیٹھ جاتا ہے

نظر بےجان ہوتی ہے

صدا سنسان ہوتی ہے

یہ جان ویران ہوتی ہے

تبھی ان ریتلے

بے جان جسموں سے

یہی آسیب

رغبت سے

ہمارے خواب کھاتا ہے


فرحین چودھری

No comments:

Post a Comment