خواب آسیب
دریچوں میں کھڑی دستک
بھلا یہ رات کی
کیوں کسمساتی ہے
دریچے بند ہیں
ان کو ابھی تو
بند رہنا ہے
کہ گلیوں میں ہر اک جانب
کوئی آسیب پھرتا ہے
لہو اوڑھے
صدا توڑے
دریچے توڑ کر اندر
دلوں میں بیٹھ جاتا ہے
نظر بےجان ہوتی ہے
صدا سنسان ہوتی ہے
یہ جان ویران ہوتی ہے
تبھی ان ریتلے
بے جان جسموں سے
یہی آسیب
رغبت سے
ہمارے خواب کھاتا ہے
فرحین چودھری
No comments:
Post a Comment