خوشی کا گیت نہیں ہوں نہ گا دیا گیا ہُوں
میں ایک نوحہ ہوں، رو کر سُنا دیا گیا ہوں
کھدائی کر کے مجھے پائے کوئی قدر شناس
اسی لیے میں دفینہ بنا دیا گیا ہوں
ملا نہیں تھا اسے، راہ میں پڑا ہوا میں
جو مالِ مُفت سمجھ کر لُٹا دیا گیا ہوں
نظر نہ آئے کسی کو بھی مجھ میں عکس اپنا
کہ ہوں تو آئینہ، اُلٹا لگا دیا گیا ہوں
ثبوت اسی کو سمجھیے مِرے کھرے پن کا
بہ طورِ سکۂ رائج لیا، دیا گیا ہوں
پھر اس کے بعد کے احوال کچھ نہیں معلوم
جب آئی رنگ پہ محفل، اُٹھا دیا گیا ہوں
میں سادہ لوح کھلاڑی، زمانہ شاطر تھا
ہر ایک کھیل میں سورج! ہرا دیا گیا ہوں
صدیق سورج
No comments:
Post a Comment